نئی دہلی، 28 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے جمعرات کو 21 ریاستوں کو 11.8 لاکھ جنگلی باشندوں اور قبائلیوں کو بے دخل کرنے سے متعلق اپنے ہی 13 فروری کے حکم پر روک لگا دی ہے۔جنگل کی زمین پر ان باشندوں کے دعوے حکام نے مسترد کر دیاتھا۔جسٹس ارون مشرا اور جسٹس نوین سنہا کی بنچ نے ان ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ جنگلی باشندوں کے دعوے رد کرنے کے لئے اپنائے گئے عمل کی تفصیلات کے ساتھ حلف نامے کورٹ میں داخل کریں۔بنچ اس معاملے میں اب 30 جولائی کو آگے کی سماعت کرے گی۔
دراصل سپریم کورٹ بدھ کو 13 فروری کے اپنے حکم پر روک لگانے کی مرکزی حکومت کی درخواست پر غورکرنے کے لئے متفق ہو گئی تھی۔کورٹ نے اس حکم کے تحت 21 ریاستوں سے کہا تھا کہ قریب 11.8 لاکھ ان جنگلی باشندوں (قبائلیوں) کو بے دخل کیا جائے، جن کے دعوے مسترد کر دیے گئے ہیں۔بنچ نے آج سماعت کے بعد کہاکہ ہم اپنے 13 فروری کے حکم پر روک لگا رہے ہیں۔بنچ نے کہا کہ جنگلی باشندوں کو بے دخل کرنے کے لئے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی تفصیلات کے ساتھ ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو حلف نامے داخل کرنے ہوں گے۔
مرکز نے 13 فروری کے حکم کواصلاح کی درخواست کرتے ہوئے کورٹ سے کہا کہ مرکز اور دیگر روایتی قبائلیوں (جنگل حقوق کے اعتراف) قانون، 2016 منافع دینے سے متعلق قانون ہے کیونکہ یہ لوگ انتہائی غریب اور ناخواندہ ہیں، جنہیں اپنے حقوق اور قانونی عمل کی معلومات نہیں ہے، تو ان کی مدد کے لئے دل کھولا جانا چاہئے۔
غور طلب ہے کہ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ 11.9 ملین جنگلی باشندوں (ایف ڈی ایس ٹی) اور دیگر روایتی قبائلیوں (اوٹی ایف ڈی) کو جنگلوں سے نکالنے کے حکم پر روک لگانے سے متعلق درخواست پر فوری طور پر سماعت کرے،ان لوگوں کے جنگل میں رہنے کے حق سے منسلک دعووں کو ریاستی حکومتوں نے مسترد کر دیا تھا۔